ابنا: سعودي عرب کي عدليہ کے ذرائع نے اس ملک کي عدالتوں ميں چاليس شيعہ مسلمانوں پر مقدمہ چلائےجانے کي کاروائي کي خبروں کي تصديق کرتے ہوئے کہاکہ ان لوگوں کے خلاف مقدمات شروع ہوگئے ہيں جن لوگوں کو مشرقي شہر القطيف ميں مظاہروں کے دوران گرفتار کيا گيا تھا -
ان افراد پر جنھيں سعودي حکومت نے ملک ميں گڑ بڑ پھيلانے والوں کا نام ديا ہے آج کسي وقت فرد جرم عائد کردي جائے گي -
ان افراد پر مقدمے کي کاروائي گذشتہ سنيچر سے ہي شروع ہوگئي تھي - اس کيس کا ايک دلچسپ پہلو يہ ہےکہ جن شيعہ مسلمانوں پر مقدمہ چلايا جارہا ہے ان ميں متعدد لوگ ايسے ہيں جو کافي کم عمر ہيں -
سعودي عرب کے عدالتي حکام کا کہنا ہے کہ ان ملزمين ميں سے ايک کي عمر اٹھارہ سال ہے اور اس کا جرم بھي جمہوريت کے حق ميں ہونےوالے مظاہروں ميں شرکت اور حکومت کے خلاف نعرے لگانا ہے -
سعودي عرب ميں شيعہ مسلمانوں پر اس طرح کي کاروائي پر بين الاقوامي اداروں نے شديد ردعمل کا اظہار کيا ہے -
ہيومن رائٹس واچ اور ديگر عالمي تنظيموں نے اس طرح سے مقدمات چلائے جانے پر تنقيد کرتے ہوئے سعودي حکومت سے کہا ہے کہ وہ بين الاقوامي قوانين اور شہريوں کے حقوق کا احترام کرے -
انساني حقوق کي عالمي تنظيموں کي طرف سے يہ مطالبات ايک ايسے وقت سامنے آئے ہيں جب اعداد وشمار ميں بتايا گيا ہے کہ سعودي عرب کي جيلوں ميں پنتاليس ہزار سياسي کارکن بند ہيں اور ان پر ابھي تک کسي طرح کا نہ تو مقدمہ چلايا گيا ہے اور نہ ہي ان پر کوئي چارج لگايا ہے ان جرم صرف يہ ہے کہ انہوں نے حکومت مخالف مظاہروں ميں حصہ ليا ہے
ان ميں بيشتر افراد ايسے ہيں جن کو آل سعود حکومت کي پاليسيوں پر تنقيد کرنے کے الزام ميں جيلوں کي سلاخوں کے پيچھے ڈال ديا گيا ہے - سعودي عرب ميں سياسي کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان قيديوں ميں ايسے بھي قيدي ہيں جنھيں صرف اس جرم ميں گرفتار کيا گيا ہے کہ وہ عشرہ محرم کے دوران مجالس عزا کے پوسٹر چسپاں کررہے تھے اور وہ گذشتہ ايک سال سے احساء شہر کي جيلوں ميں بند ہيں - ان کي عمريں بھي انيس سے چھبيس سال کي بتائي جاتي ہيں جبکہ خود سعودي عرب کے قانون کے مطابق انہوں نے کسي جرم کا ارتکاب ہي نہيں کيا ہے -
انيس سو چھيانوے ميں جب الخبر شہر ميں امريکي فوج کے اڈے پر حملہ ہوا تھا اسي وقت سعودي حکومت نے چھ شيعہ مسلمانوں کو کسي ثبوت کے بغير گرفتار کرليا تھا ان افراد کے خلاف بارہ سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھي کوئي چارچ شيٹ داخل نہيں کي گئي ہے اور سعودي عرب کي عدالت نے بھي ان لوگوں کو اپنے لئے وکيل کرنے کا بھي اجازت نہيں دي ہے مبصرين کا کہنا ہے کہ سعودي عرب کي عدالت کا يہ رويہ خود اس بات کي دليل ہے کہ نہ صرف سعودي عرب کے معاشرے ميں انساني حقوق کي کھلي پائمالي حکومتي مشينريوں کي جانب سے ہورہي بلکہ سعودي جيلوں ميں بھي قيديوں کے حقوق کو پائمال کيا جارہا ہے -
گذشتہ دو سال سے سعودي عرب کي حکومت کي تفريق آميز پاليسيوں کے خلاف عوامي تحريک جاري ہے جس کے دوران سعودي حکومت نے بڑي تعداد ميں لوگوں کو گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا ہے - جبکہ بہت سے لوگ تو ايسے بھي ہيں جن کے بارے ميں يہ معلوم ہي نہيں ہوسکا ہے کہ وہ کہاں اور کس حال ميں ہيں - ان تمام حالات ميں آل سعود کي حکومت اس وقت چاليس شيعہ مسلمانوں پر مقدمہ چلا کر ايک ڈرامہ کرنے کي کوشش کررہي ہے -
ان لوگوں کےخلاف عدالتي کاروائي مکمل طور پر بند کمرے ميں ہورہي ہے اور وکيلوں کو کمرہ عدالت ميں جانے کي اجازت نہيں ہے جس سے يہ بات صاف ہوجاتي ہے کہ سعودي عرب کي عدليہ آزاد نہيں بلکہ پوري طرح آل سعود حاندان سے وابستہ ہے -
.......
/169